ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 2019 میں جی این یو طلبا کی آمد : بہار سے کنہیا تو جموں کشمیر سے شہلا رشید لڑ سکتی ہیں انتخابات

2019 میں جی این یو طلبا کی آمد : بہار سے کنہیا تو جموں کشمیر سے شہلا رشید لڑ سکتی ہیں انتخابات

Tue, 04 Sep 2018 12:28:48    S.O. News Service

نئی دہلی4ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) 2019 لوک سبھا انتخابات میں جے این یو کے دو بڑے طالب علم رہنما دستک دے سکتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا نام جے این یو طالب علم یونین کے سابق صدر کنہیا کمار کا ہے جو بہار کے بیگو سرائے سے الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ وہیں جے این یو طلبا یونین کی نائب صدر رہیں شہلا رشید کے جموں کشمیر سے الیکشن لڑنے کی قیاس آرائی چل رہی ہے ۔ کنہیا اپنی پارٹی یعنی سی پی آئی سے الیکشن لڑیں گے تو شہلا کے نزدیکی ذرائع کے مطابق انہیں نیشنل کانفرنس انتخابات لڑوا سکتی ہے۔ ظاہر ہے اپوزیشن ان نوجوان لیڈروں کو مرکز کی نریندر مودی حکومت کے خلاف لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے قسمت آزمائی کرسکتی ہے ۔ میڈیا سے کنہیا نے کہا کہ ابھی الیکشن لڑنے کو لے کر کچھ بھی سرکاری طور پر طے نہیں ہوا ہے۔ اگرچہ انہوں نے یہ صاف کر دیا کہ پارٹی کا حکم ہوا تو وہ پوری توانائی سے الیکشن لڑیں گے اور وہ الیکشن لڑنے کے امکان کو مسترد نہیں کر رہے ہیں۔ کنہیا کے نزدیکی ذرائع نے بھی ان کے بیگو سرائے لوک سبھا سیٹ سے الیکشن لڑنے کا امکان ظاہر کیا ہے اور بتایا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے کنہیا اپنے علاقے میں انتہائی فعال بھی ہیں۔ بہار میں سی پی آئی کے مقامی رہنماؤں نے بھی میڈیا سے کنہیا کے نام کو لے کر تصدیق کی ہے۔ ذرائع کے مطابق بہار میں مہاگٹھ بندھن میں شامل جماعتوں کے درمیان بھی کنہیا کو لے کر اتفاق ہے۔ اگرچہ اب کوئی بھی پارٹی رسمی طور پر کچھ نہیں کہہ رہی ہے۔وہیں شہلا رشید کے نزدیکی ذرائع کے مطابق انہیں نیشنل کانفرنس نے الیکشن لڑنے کی پیشکش کی ہے جس پر وہ غور کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیشنل کانفرنس نے شہلارشید کو فاروق عبداللہ کی روایتی نشست سے الیکشن لڑنے کا آفر دیا ہے۔کنہیا کمار کے انتخاب لڑنے کی بات کا اپوزیشن کے دوسرے نوجوانوں کی تنظیم بھی استقبال کر رہے ہیں۔ 


Share: